سردیوں کی آمد سے قبل ہی شہر میں گیس کی شدید لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کر دی ہے۔ پی آئی بی کالونی اور گردونواح میں گزشتہ 20 روز سے گیس کی بندش جاری ہے، جس کے باعث گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں اور شہری لکڑیوں یا مہنگے سلینڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ جہانگیر روڈ، جمشید کوارٹر، مارٹن کوارٹر اور پی آئی بی میں پانی اور گیس کی مسلسل عدم فراہمی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور “گیس دو، گیس دو” کے نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ گیس کے بل تو باقاعدگی سے بجھوائے جاتے ہیں لیکن کئی ہفتوں سے گیس فراہم نہیں کی گئی، جس سے معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں۔ شہریوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ مناظر کسی دیہی علاقے کے نہیں بلکہ دو ہزار پچیس کے کراچی کے ہیں—ایک ایسا شہر جو ملک کے خزانے میں ستر فیصد تک ریونیو دیتا ہے، پھر بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ علاقہ مکینوں نے عوامی نمائندوں، بالخصوص قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین اور بلدیاتی نمائندوں پر بھی شدید تنقید کی، جن کے بارے میں شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ علاقے کے مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق نظر آتے ہیں۔






