سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان کے خدشات ایک بار پھر درست ثابت ہونے لگے۔ قومی ایئرلائن کے طیارے کو حفاظتی بنیادوں پر کراچی میں لینڈ کروایا گیا۔ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پی آئی اے انجینئرز کی جانب سے طیاروں کی سیفٹی اور مینٹیننس سے متعلق عرصہ سے اٹھائے گئے خدشات حقیقت پر مبنی ثابت ہو رہے ہیں۔جمعرات کے روز لاہور سے جدہ جانے والا طیارہ پرواز کے دوران ونڈ شیلڈ میں دراڑ آنے پر ایمرجنسی طور پر کراچی ایئرپورٹ ڈائیورٹ کیا گیا، جہاں جہاز بحفاظت لینڈ کر گیا۔ذرائع کے مطابق متعلقہ طیارہ پہلے بھی تکنیکی و مینٹیننس ہسٹری رکھتا تھا، جس پر انجینئرز کئی مرتبہ توجہ دلا چکے تھے، تاہم انتظامیہ نے اعلیٰ سطح پر ان خدشات کو مسلسل نظرانداز کیا۔سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ واضح ثبوت ہے کہ انجینئرز کی جانب سے اٹھائے گئے سیفٹی ایشوز حقیقی تھے اور ان پر توجہ نہ دینے سے مستقبل میں ایوی ایشن سیفٹی کے لیے شدید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔سوسائٹی نے حکومتِ پاکستان، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کی شفاف انکوائری کریں اور انجینئرز کے پیش کردہ تکنیکی و سیفٹی نکات کو سنجیدگی سے ایڈریس کریں، تاکہ کسی بڑے حادثے سے پہلے پیشگی اقدامات کیے جا سکیں۔





