کراچی کے علاقے بغدادی میں گرنے والی پرانی رہائشی عمارت کے معاملے میں پولیس نے ابتدائی اطلاعی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے، جس میں سنگین غفلت اور لاپرواہی کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ عمارت 1986 میں مالک نے دو حصوں پر مشتمل “گراؤنڈ پلس فائیو” کے طور پر تعمیر کی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ عمارت کی حالت خستہ ہو چکی تھی اور دونوں حصے ناقابل رہائش قرار دیے جا چکے تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے افسران کو 2022 سے اس عمارت کی خطرناک حالت کا علم تھا، اس کے باوجود کوئی خاطرخواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ SBCA کی مجرمانہ غفلت کے باعث 20 فلیٹوں پر مشتمل اس عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہوا۔پولیس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمارت کی مخدوش حالت سے متعلق معلومات ہونے کے باوجود SBCA کے افسران نے نہ تو سنجیدہ اقدامات کیے اور نہ ہی مکینوں کو بروقت خبردار کیا۔ اس مجرمانہ لاپرواہی کے نتیجے میں قیمتی جانیں خطرے میں پڑ گئیں۔عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں SBCA کے چھ ڈائریکٹرز سمیت 14 افراد کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔






