کراچی کے علاقے شہید ملت ایکسپریس وے پر ایک تیز رفتار مسافر کوچ ڈرائیور سے بے قابو ہو کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 14 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اقرا یونیورسٹی کے قریب پیش آیا جب کوچ قیوم آباد سے بلوچ پل کی جانب جاتے ہوئے گاڑیوں کو اوورٹیک کرتے ہوئے الٹ گئی۔ زخمیوں کو فوری طور پر ایدھی اور چھیپا ایمبولینسز کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جب کہ بعض زخمی شہری اپنی مدد آپ کے تحت نجی اسپتالوں میں علاج کے لیے روانہ ہو گئے۔ ایدھی اور چھیپا کے ترجمان کے مطابق زخمیوں میں شامل افراد کی شناخت عبدالقیوم، غلام، یعقوب، صفت، محمد صفدر، بلال، نجم، لطیف، راجن، کامران، خان زمان، گنگا اور ثوبیہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کی عمریں 27 سے 63 سال کے درمیان ہیں۔ حادثے کے بعد شہید ملت ایکسپریس وے پر قیوم آباد سے بلوچ پل جانے والی سڑک پر شدید ٹریفک جام ہو گیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق، حادثے کے بعد بلال کوچ کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق حادثہ کوچ کا ٹائی راڈ ٹوٹنے کے باعث پیش آیا، تاہم عینی شاہدین نے کوچ ڈرائیور کی انتہائی لاپرواہ ڈرائیونگ کو حادثے کی اصل وجہ قرار دیا ہے۔ ایک مسافر نے بتایا کہ کوچ روزانہ ٹوکن کے دباؤ کے تحت خطرناک انداز میں اوورٹیک کرتی ہے، اور اکثر موٹرسائیکل سواروں کو بھی ٹکر مارتی ہے۔ انہوں نے شکایت کی کہ ٹریفک پولیس اہلکار روزانہ قیوم آباد چورنگی پر یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن کبھی کوئی کارروائی عمل میں نہیں لاتے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پرانی اور خستہ حال کوچز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے






