صحافی خاور حسین کی پراسرار موت پر سندھ حکومت کا میڈیکل بورڈ اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم

سانگھڑ کے صحافی خاور حسین کی پراسرار موت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ حکومت نے ورثا اور صحافی تنظیموں کے مطالبے پر میڈیکل بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرے گا۔پہلا پوسٹ مارٹم سانگھڑ میں کیا گیا تھا تاہم ورثا اور صحافی برادری نے حیدرآباد میں دوبارہ پوسٹ مارٹم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا۔ وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کے مطابق، میڈیکل بورڈ میں سینئر ڈاکٹرز اور فارنزک ماہرین شامل ہیں جو خاور حسین کے جسمانی معائنے اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے اصل حقائق سامنے لائیں گے۔مزید برآں سندھ حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی آزاد خان کریں گے۔ کمیٹی میں ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ اور ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ شامل ہیں۔ کمیٹی کو دو روز میں اپنی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈی آئی جی فیصل بشیر کے مطابق جائے وقوعہ سے خاور حسین کا پستول اور گاڑی فرانزک کے لیے بھجوا دی گئی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گولی چلنے کی آواز کسی نے نہیں سنی اور نہ ہی گاڑی کے قریب شور شرابے کے شواہد ملے۔ گاڑی کے شیشے بھی بند تھے۔ابتدائی سی سی ٹی وی فوٹیج میں خاور حسین کو ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے اور کچھ دیر بعد واپس آکر گاڑی میں بیٹھتے دیکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان کا موبائل فون ریکارڈ (سی ڈی آر) بھی 24 گھنٹوں میں حاصل کر لیا جائے گا۔ فی الحال لاش کو مزید کارروائی کے لیے حیدرآباد کے سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔