اسلام آباد کی جی الیون کچہری کے باہر خوفناک خودکش دھماکے نے شہر کو لرزا دیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس اور عینی شاہدین کے مطابق دھماکا کچہری کے مرکزی دروازے کے قریب اس وقت ہوا جب وہاں بڑی تعداد میں وکلا، سائلین اور شہری موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کی جگہ سے مبینہ خودکش حملہ آور کا سر برآمد ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ خودکش نوعیت کا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے میں 21 افراد زخمی ہوئے، جبکہ بعض ذرائع نے زخمیوں کی تعداد 12 بتائی ہے جن میں وکلاء اور سائلین بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ کچہری کے اطراف میں افرا تفری مچ گئی، جب کہ دھماکے کے باعث پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے میں 3 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں ایک پولیس کی اور دو نجی گاڑیاں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق خودکش دھماکا بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی تنظیم “فتنہ الخوارج” کے دہشتگردوں کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکھٹے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کچہری کی عمارت خالی کرالی گئی، ججز، وکلا اور سائلین کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد موقع پر پہنچ گئے ہیں اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔






