ڈی ایچ اے میں سینئر وکیل پرفائرنگ کرنے والے ملزم کی شناخت ہوگئی

معروف قانون دان خواجہ شمس الاسلام کے قتل میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی ہے۔ ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کے مطابق قتل میں ملوث شخص کی شناخت عمران آفریدی کے نام سے ہوئی ہے، جو خواجہ شمس الاسلام کے سابق گن مین کا بیٹا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق عمران آفریدی نے چند ماہ قبل بھی خواجہ شمس الاسلام پر حملہ کیا تھا، تاہم اس وقت وہ بچ گئے تھے۔ ملزم کا الزام ہے کہ اس کے والد کو 2021 میں قتل کروانے کے پیچھے خواجہ شمس الاسلام کا ہاتھ تھا، جس کا بدلہ لینے کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔ ڈی آئی جی ساوتھ کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے حکمتِ عملی تیار کر لی گئی ہے اور شہر سے باہر جانے والے تمام راستوں پر سخت ناکہ بندی کی جا چکی ہے۔ خصوصی طور پر سہراب گوٹھ پر واقع بس اڈوں، ٹول پلازوں اور دیگر داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، اور ہر بس و گاڑی کو چیک کیا جا رہا ہے تاکہ ملزم کو فرار ہونے سے روکا جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران آفریدی کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور جلد ہی ملزم قانون کی گرفت میں ہوگا۔ یہ پیشرفت خواجہ شمس الاسلام کے بہیمانہ قتل میں انصاف کی جانب اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، جب کہ وکلا برادری اور شہری حلقے واقعے میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں۔