کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز میں نئی کیتھ لیب کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آج ایک نئی کیتھ لیب کا آغاز کیا گیا ہے جہاں صبح سے اب تک تین آپریشن ہوچکے ہیں۔ اس سے قبل صرف فیڈرل بی ایریا کے عوام کو این آئی سی وی ڈی جانا پڑتا تھا، لیکن اب یہ سہولت کراچی والوں کو اپنے علاقے میں میسر آئے گی۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کئی برسوں سے بند تھا، آج کا دن شہریوں کے لیے ایک نئی خدمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید برائے تنقید کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، شہری خود دیکھیں گے کہ کہاں کتنا کام ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لیے 20 ارب روپے کا لالی پاپ کافی نہیں ہے، اگر وزیراعظم کراچی کے لیے 200 ارب روپے بھی خرچ کریں تو وہ بھی ناکافی ہیں۔ “میں چاہتا ہوں کہ میرے شہر کو اس کے حقوق ملیں، اگر وزیراعظم سے مدد نہیں مانگوں گا تو کس سے مانگوں گا۔”مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ پنجاب کے معاملات پر کچھ بولوں گا تو وزیراعلیٰ مریم نواز ناراض ہوجائیں گی، وہ اپنے صوبے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں مصروف ہیں۔ “ہمارا فرض ہے کہ ہم پنجاب کے عوام کی تکالیف دور کریں۔”میئر کراچی نے کرپشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ملازم پیسوں کی خرد برد میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ “عباسی شہید اسپتال میں ایم آر آئی مشین کی مرمت کے لیے دی گئی ایڈوانس پیمنٹ کو چیک کروں گا، شہر کے فنڈز کراچی کے عوام کے ہیں، کسی کو کھانے نہیں دوں گا۔”انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے اسپتال چلائے جا رہے ہیں، اسپتال کے ایم سی کی ملکیت ہیں، کسی کو بیچے یا کسی کے نام منتقل نہیں کیے گئے۔ اسپینسر آئی اسپتال میں ڈھائی ماہ کے دوران 200 سرجریاں ہوچکی ہیں اور نئی مشینوں کے ذریعے عوام کو فری ٹیسٹ کی سہولت ملے گی۔میئر کراچی نے بتایا کہ عباسی شہید اسپتال کے نئے بلاک کا افتتاح اسی ماہ کیا جائے گا، اگرچہ سیاسی سازشوں کی وجہ سے رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ “ہم نے کوشش کی تھی کہ عباسی شہید اسپتال کو این آئی سی وی ڈی کا حصہ بنایا جائے۔”






