وزیر منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو کی صدارت میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کے فور سمیت مختلف منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ جام خان شورو نے اجلاس میں کہا کہ وفاقی سطح پر سندھ کے منصوبوں کےلیے اسلام آباد میں ایک سے دو افسران تعینات کیے جائیں تاکہ وفاقی محکموں سے بہتر رابطہ رکھا جا سکے۔سیکریٹری تعلیم زاہد حسین عباسی نے بریفنگ میں بتایا کہ 9.3 ارب روپے لاگت کے تعلیمی منصوبوں کے لیے 100 فیصد فنڈز مختص کیے جا چکے ہیں اور یہ تمام منصوبے 30 جون 2025 تک مکمل کر لیے جائیں گے۔انہوں نے 401 اسکولوں کی تعمیراتی پیش رفت پر بھی رپورٹ پیش کی۔جام خان شورو نے ہدایت دی کہ تعمیر شدہ اسکولوں کی پائیداری کم از کم 40 سال تک یقینی بنائی جائے اور تعمیراتی معیار و مٹیریل کا تھرڈ پارٹی سروے کرایا جائے تاکہ شفافیت برقرار رہے۔سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز نے اجلاس کو سڑکوں کے شعبے سے متعلق وفاقی پی ایس ڈی پی منصوبوں پر بھی بریفنگ دی۔جام خان شورو کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت تعلیم، صحت اور سڑکوں کے شعبوں میں بہتری کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی شفاف نگرانی اور بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے،اور اگر کسی اسکیم میں غفلت یا بدانتظامی پائی گئی تو متعلقہ افسر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔






