سہراب گوٹھ کے قریب قائم افغان بستی کو 40 سال بعد مسمار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ پولیس، رینجرز اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی مشترکہ کارروائی میں گھروں پر بھاری مشینری کے ذریعے بلڈوزر چلا دیے گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس نے بدھ کے روز سہراب گوٹھ کے قریب قائم افغان بستی کو مسمار کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا، جس میں ایم ڈی اے اور دیگر ادارے بھی شریک ہیں۔کارروائی کے دوران رینجرز نے علاقے کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ کے مطابق افغان بستی میں ماضی میں تقریباً 30 ہزار افغان باشندے مقیم تھے جنہیں تین مراحل میں منتقل کیا گیا، تاہم اب بھی تقریباً دو ہزار افراد علاقے میں موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ خالی گھروں پر قبضے کی کوششیں کی جا رہی تھیں جس کے باعث فوری کارروائی کی گئی۔ زمین کو مکمل طور پر خالی کرا کے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔دوسری جانب وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں افغان مہاجر کیمپوں کی بندش کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، مانسہرہ، چارسدہ اور مالاکنڈ میں قائم کئی دہائیوں پرانے کیمپ بند کر دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے بھی غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے منصوبے کے تیسرے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے، جس کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی ملک بدری جاری ہے۔






