کراچی میں غیرقانونی پورشنز اور اضافی فلورز کی خرید و فروخت پر پابندی

کراچی میں غیرقانونی پورشنز، اضافی فلورز اور غیرمجاز تعمیرات کی خرید و فروخت، لین دین اور ٹرانسفرز پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر شرقی اور جنوبی نے اپنے اپنے اضلاع میں غیرقانونی تعمیرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر سخت احکامات جاری کیے ہیں، جو شہر کے اہم رہائشی اور کمرشل علاقوں پر لاگو ہوں گے۔جاری کیے گئے احکامات کے مطابق ضلع شرقی میں گلستانِ جوہر، پی آئی بی کالونی، جمشید روڈ، سولجر بازار، پی ای سی ایچ ایس، محمود آباد اور گلشن اقبال کے وہ علاقے شامل ہیں جہاں غیرقانونی فلورز اور اضافی غیرمجاز منزلوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ زور پکڑتا جا رہا تھا۔ اسی طرح ضلع جنوبی میں لیاری، گارڈن اور اولڈ سٹی ایریا کے علاقوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں اس نوعیت کی سرگرمیاں رپورٹ ہو رہی تھیں۔ڈپٹی کمشنرز نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ متعدد رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور پراپرٹی ڈیلرز رہائشی پلاٹوں کے اندر غیرقانونی حصوں اور اضافی فلورز کی فروخت کے کاروبار میں ملوث ہیں، جس سے شہریوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ قانوناً بھی ایک مجرمانہ عمل ہے، جبکہ عدالتِ عالیہ نے بھی ایسے تعمیراتی اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا ہوا ہے۔رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، پراپرٹی ڈیلرز اور بلڈرز کو واضح طور پر ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیرقانونی تعمیر، اضافی منزل یا غیرمجاز پورشن کی خرید و فروخت، اشتہارات یا لین دین میں شامل نہ ہوں۔ خلاف ورزی کی صورت میں سخت گرفتاریوں اور قانونی کارروائی کی تنبیہ جاری کی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنرز کا کہنا ہے کہ سب رجسٹرار اس امر کو یقینی بنائیں کہ غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کسی بھی جائیداد کی سب لیز یا رجسٹریشن ہرگز نہ کی جائے۔مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کو ناقابلِ قبول اور غیرقانونی سرگرمی تصور کیا جائے گا، اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی و انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔