کراچی میں ایکسپائر اور جعلی ادویات فروخت کرنے والا گروہ گرفتار

شہر قائد میں عوام کی صحت سے کھیلنے والا نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا۔ بن قاسم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایکسپائر اور مضر صحت ادویات فروخت کرنے والے گروہ کے 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں شکیل، امیر، سیف الرحمان، میر عالم، نظام بوستان، حسین اور شوکت شامل ہیں۔ ملزمان فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ایکسپائر ادویات اور خام مال چوری کرکے مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرتے تھے۔ گروہ کا سرغنہ شکیل تھا جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ دھندہ چلا رہا تھا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں امراضِ نسواں اور ملٹی وٹامنز کی جعلی ادویات بھی پکڑی گئی تھیں، جس کے بعد ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ریپڈ الرٹ جاری کیا تھا۔ اس الرٹ میں بتایا گیا تھا کہ جی بی ڈرگ، واٹر و فوڈ اتھارٹی نے 4 مختلف ادویات کے بیچ جعلی قرار دیے ہیں۔ یہ جعلی ادویات مقامی کمپنیوں کے برانڈز کے نام پر تیار کی گئی تھیں، جن کے لیبلز پر کراچی اور لاہور کے پتے درج تھے۔ڈریپ کے مطابق جعلی ادویات ڈرگ ایکٹ 1976 سیکشن 3 کے تحت ممنوع ہیں۔ ان میں امراضِ نسواں کی مسرون 10 ایم جی ٹیبلٹ، فالک ایسڈ اور وٹامن بی 12 کی کیوٹیفول ٹیبلٹ، اور ڈیپاسرون ٹیبلٹ بیچ 2406 شامل ہیں۔