کراچی کے علاقے یونیورسٹی روڈ پر نجی کوریئر کمپنی میں ڈکیتی کی واردات کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈکیتی کرنے والا ملزم کمپنی کا سابق ملازم لاریب تھا، جس نے غصے میں آکر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر واردات کی منصوبہ بندی کی۔ پولیس کے مطابق مقدمہ درج کرکے رقم برآمد کرلی گئی ہے، جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے متعدد اہم حقائق سے پردہ اٹھایا۔ ملزم لاریب نے بیان میں بتایا کہ پانچ ماہ قبل منیجر قاسم نے اسے غلط الزام لگا کر نوکری سے نکال دیا تھا، جس کے بعد اس نے انتقامی کارروائی کے طور پر ڈکیتی کی پلاننگ کی۔ واردات میں اس کا ایک رکشہ ڈرائیور دوست سلیم اور دوسری کمپنی کا ملازم آصف بھی شامل تھا، جو پستول لیے موقع پر موجود تھا۔ ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ رات کے وقت عام افراد کی طرح دفتر میں داخل ہوا، سیدھا کیشیئر روم میں گیا اور ساری رقم بیگ میں ڈال کر فرار ہوگیا۔ اس کے مطابق اسے اندازہ نہیں تھا کہ پولیس اس کے پیچھے لگ چکی ہے۔ لاریب نے مزید کہا کہ وہ ایک سال تک کمپنی میں ملازم رہا اور غلط الزام کے تحت نکالے جانے کے باعث نہ صرف بیروزگار ہوا بلکہ اس کے مطابق اسے دوسری جگہ بھی ملازمت نہیں مل رہی تھی۔ ملزم کے مطابق اس کا کوئی پچھلا مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور اس کے 2 بیٹیاں اور 2 بیٹے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزم آصف پستول کے ساتھ رکشے والے سلیم کے ہمراہ آیا، اور تینوں نے مل کر ڈکیتی کی کارروائی انجام دی۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔






