وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے دعویٰ کیا ہے کہ نیو کراچی میں نالے پر سات ہزار دکانیں سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کے دور میں بنوائی گئیں، اور جب حکومت ان کے خلاف کارروائی کے لیے گئی تو ایم کیو ایم عدالت چلی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ نالوں کی صفائی نہیں کی گئی، شہر کے بڑے نالوں کی صفائی مکمل کی گئی تھی، تاہم نالے چاہے کتنے ہی بڑے کیوں نہ کر دیے جائیں، وہ گنجائش سے زیادہ پانی نہیں سنبھال سکتے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت جب تجاوزات ہٹانے کی کوشش کرتی ہے تو دیگر جماعتیں شور مچانا شروع کر دیتی ہیں، قدرتی آفات کی صورتحال میں جیسا رویہ کراچی کی سیاسی جماعتیں اپناتی ہیں ویسا کہیں نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہر کے وہ نالے جن پر تجاوزات قائم ہیں ختم کر دیے جائیں تو صورتحال میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ نرسری کا علاقہ ایک پیالے کی طرح ہے جہاں مختلف مقامات سے پانی آکر جمع ہوتا ہے، تاہم صفائی کے بعد وہاں پانی کھڑا ہونے کی شکایات میں کمی آئی ہے۔ نالوں سے اینٹیں، بوریاں اور بڑے بڑے پتھر نکالے گئے ہیں۔ حکومت نے بھرپور کوشش کی اور چار سے چھ گھنٹے میں سڑکیں کھولنے کی کارروائیاں کیں، جبکہ شہریوں نے بھی رضاکارانہ طور پر لوگوں کی مدد کی۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ وہ تمام لوگوں سے رابطے میں رہے، کام سب نے مل کر کیا اور حکومت نے 2022 کی بارشوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔






