خاتون کو شناختی کارڈ نہ دینے پر سندھ ہائیکورٹ برہم، نادرا کو فوری اجلاس بلانے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ نے زرینہ نامی خاتون کو قومی شناختی کارڈ جاری نہ کرنے پر نادرا حکام کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے نادرا کو آج ہی زونل بورڈ کا اجلاس بلا کر درخواست گزار کی تصدیق کرنے کا حکم دے دیا۔جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیے کہ شہریوں کے ساتھ ادارے کا رویہ درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “بندہ کام کاج چھوڑ کر نادرا آتا ہے اور وہاں کہا جاتا ہے کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں۔” عدالت نے مزید کہا کہ نادرا کو چاہیے کہ شہریوں کو غیر ضروری مشکلات سے بچائے اور عدالتی احکامات پر فوری عمل کرے۔ عدالت نے نادرا سے 15 روز میں پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق عدالت نے مارچ 2025 میں زرینہ کی تصدیق کا حکم دیا تھا، تاہم اب تک شناختی کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار کا موقف ہے کہ ان کے قریبی بلڈ ریلیشن موجود نہیں، اسی لیے شوہر کے ساتھ قومی شناختی کارڈ بنانے کی اجازت دی جائے۔