وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا ہے کہ شہر میں بھتہ خوری کا مسئلہ سنجیدہ نوعیت کا ہے، تاہم حکومت بزنس کمیونٹی کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ کچھ تاجروں کو بھتا نہ دینے پر دھمکیاں موصول ہوئیں، لیکن حکومت کسی کو اجازت نہیں دے گی کہ کاروباری برادری کو خوفزدہ یا تنگ کرے۔ان کا کہنا تھا کہ پولیس کارروائیوں کے دوران بھتہ خوری میں ملوث 4 ملزمان ہلاک جبکہ 3 کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی آئی اے اور ایس آئی یو نے گزشتہ دو ہفتوں میں 20 سے زائد بھتہ خور گرفتار کیے ہیں۔ان کے مطابق رواں سال اب تک بھتہ خوری کے 118 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 44 کیس ذاتی اختلافات پر مبنی تھے۔پولیس نے مجموعی طور پر 43 بھتہ خور گرفتار کیے ہیں۔ایڈیشنل آئی جی نے مزید بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 28 فیصد اور گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ شہریوں کو تحفظ اور اعتماد دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بھتہ خوری کے مکمل خاتمے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی پر عمل جاری ہے۔






