وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ٹرین سے سفر کرنے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے اور ایسے مسافروں کو کرایہ نہ دلوانے والے دونوں کو جیل جانا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف اس ایک وجہ سے ریلوے کو سالانہ ایک ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ رواں سال ریلوے کی 50 ارب روپے مالیت کی زمین واگزار کرائی جائے گی، جن میں سے اب تک 15 ارب روپے کی زمین واپس لی جا چکی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ریلوے فریٹ ٹرینوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوا ہے، این ایل سی کو دو ٹرینیں فراہم کر دی گئی ہیں جبکہ مزید 10 ٹرینوں کی طلب موجود ہے۔ اس کے ساتھ ہی 11 ٹرینیں آؤٹ سورس ہو چکی ہیں، 9 ٹرینیں مزید آؤٹ سورس کی جا رہی ہیں اور 31 دسمبر تک کل 38 ٹرینیں آؤٹ سورس کر دی جائیں گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ حکومت کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کراچی اسٹیشن اور تمام ٹرینوں کی صفائی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کینٹ اسٹیشن پر تعمیر ہونے والا سی آئی پی لاؤنج یورپ سے بھی بہتر ہوگا جبکہ 40 اسٹیشنز پر وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔حنیف عباسی نے یہ بھی کہا کہ حالیہ سیلاب کے باعث ٹرینوں کے شیڈول پر اثر پڑا ہے اور متعدد ٹرینیں تاخیر کا شکار ہیں۔






