سندھ کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینین خراب اور بند پڑے ہونے کا انکشاف

سندھ کے بیشتر بڑے سرکاری اسپتالوں میں کروڑوں روپے کی لاگت سے خریدی گئی سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینیں کئی برسوں سے خراب اور بند پڑی ہیں۔ یہ انکشاف گزشتہ روز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں ہوا، جس پر تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے سوال اٹھایا کہ ڈویژنل اسپتالوں میں مہنگی مشینیں کیوں خراب اور غیر فعال ہیں؟ سیکریٹری صحت ریحان بلوچ نے انکشاف کیا کہ نہ صرف لاڑکانہ بلکہ سندھ کے اکثر بڑے اسپتالوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بعض ٹیکنیشنز دانستہ طور پر مشینیں خراب کرتے ہیں تاکہ مریض نجی لیبارٹریز سے مہنگے داموں ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہوں۔ ان کے مطابق اس معاملے پر کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مزید سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں دیگر سنگین بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مختلف اضلاع میں ایم ایس نے ٹینڈر کے بغیر 3 ارب روپے سے زائد مالیت کی ادویات خریدیں۔ پی اے سی نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان ادویات اور اسپتالوں کی مکمل فہرست طلب کرلی۔اجلاس میں سندھ بھر میں غیر رجسٹرڈ اور جعلی ادویات بیچنے والے میڈیکل اسٹورز کے خلاف فوری کارروائی، ان کے لائسنس منسوخ کرنے اور مقدمات درج کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔مزید برآں، ڈاکٹر رتھ فاؤ سول اسپتال کراچی میں صفائی پر سالانہ 135 ملین روپے خرچ ہونے کے باوجود ناقص صفائی کے نظام پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں ہوا، جس میں اراکین خرم کریم سومرو، طاحہ احمد، سیکریٹری صحت اور سندھ بھر کے اسپتالوں کے ایم ایس سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے سال 2024 اور 2025 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔