کراچی میں گرفتار ثار گروپ کے چار دہشت گردوں نے دورانِ تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ ملزمان صحافی امتیاز میر سمیت فرقہ وارانہ بنیادوں پر متعدد ٹارگٹ کلنگز میں ملوث رہے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق مرکزی ملزم اجلال زیدی 2011 سے زینبیون بریگیڈ سے منسلک ہے اور اسے تین سے چار بار غیر قانونی طریقے سے پڑوسی ملک بھیجا جاتا رہا، جہاں وہ تربیت حاصل کرکے واپس آتا تھا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملزمان کو بیرون ملک موجود ایک شخص کی جانب سے ٹارگٹ دیے جاتے تھے، کراچی میں پہلے ریکی کی جاتی اور پھر نشانہ بنایا جاتا تھا۔رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزم فراز 2020 میں بھی ایک قتل کیس میں ملوث نکلا، اور وہ اس دوران سٹی وارڈن کے محکمے میں سرکاری ملازم بھی تھا۔ ملزمان کو ٹارگٹ ملنے کے بعد انہیں نامعلوم افراد کی جانب سے اسلحہ اور موٹر سائیکل فراہم کی جاتی تھی، جب کہ گروہ کے کسی بھی رکن کی گرفتاری کی صورت میں جیل سے چھڑانے کے اخراجات بھی ادا کیے جاتے تھے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزمان کے بیرونی روابط اور فنڈنگ نیٹ ورک کی چھان بین میں مصروف ہیں۔






