ڈیجیٹل کرنسی کی مبینہ چوری کا معاملہ، پولیس نے متاثرہ نوجوان کا بیان ریکارڈ کرلیا

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نوجوان کے موبائل سے 8 لاکھ 50 ہزار ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے معاملے میں نئی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق، پشاور کے رہائشی نوجوان فیض یاب نے الزام عائد کیا تھا کہ ایئرپورٹ پر موجود حکام نے اس کا موبائل فون لے کر ڈیجیٹل کرنسی دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کی، جبکہ اس کا ای میل اور واٹس ایپ اکاؤنٹ بھی ہیک کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق متاثرہ نوجوان کا ابتدائی بیان ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیرزادہ نے بتایا کہ فیض یاب نے بیان میں ایئرپورٹ کے اندر پیش آنے والے تمام حالات کی تفصیلات فراہم کی ہیں اور اس کمرے کی نشاندہی بھی کی ہے جہاں اسے مبینہ طور پر لے جایا گیا۔پولیس کے مطابق نوجوان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر 30 دن کے اندر کارروائی نہ کی گئی تو ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیجز ضائع ہوسکتی ہیں۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فیض یاب کے بیان اور سی سی ٹی وی فوٹیجز میں تضاد پایا گیا ہے — فوٹیج کے مطابق وہ ایئرپورٹ سے مکمل صحت مند حالت میں باہر نکلتے ہوئے نظر آرہا ہے۔ایس ایس پی ملیر کے مطابق واقعے کی تفتیش گریڈ 17 کے افسر کے سپرد کردی گئی ہے، جو عدالتی حکم پر مکمل انکوائری رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔پولیس ذرائع کے مطابق فیض یاب آن لائن سرمایہ کاری کے کام سے وابستہ ہے اور کراچی میں وہ طلحہ نامی شخص سے ملنے آیا تھا۔ تاہم طلحہ سے متعلق کوئی تفصیلات تاحال فراہم نہیں کی گئیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز کے مطابق فیض یاب کو تقریباً 50 منٹ تک ایک ہی مقام پر بیٹھے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ کچھ دیر کے لیے اٹھ کر دوبارہ وہیں واپس آیا۔یاد رہے کہ یہ واقعہ 30 ستمبر کو پیش آیا تھا، جس کے بعد متاثرہ نوجوان نے پولیس کو اطلاع دی، تاہم کارروائی نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔