پی آئی اے دفاتر میں بجلی بند، طیاروں کی مینٹیننس رک گئی، صورتحال سنگین

قومی ایئرلائن (پی آئی اے) کے مختلف دفاتر اور شعبہ جات میں اچانک بجلی بند ہونے سے طیاروں کی مینٹیننس کا کام متاثر ہو گیا، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اصفہانی ہینگر، پی آئی اے انجینئرنگ اور ایئرکرافٹ انجینئرز کے دفاتر سمیت کئی شعبہ جات کی بجلی اچانک منقطع ہو گئی، جس سے ہینگر میں موجود طیاروں کی مرمت اور تکنیکی کام رک گئے۔ بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے کے مختلف دفاتر کو کے الیکٹرک سے بجلی کی فراہمی تین روز سے معطل ہے۔ادھر کراچی میں دو روز کی طوفانی بارشوں کے بعد بجلی کا شدید بحران برقرار ہے۔ کے الیکٹرک کے 98 فیڈرز اب بھی غیر فعال ہیں، جس کے باعث شہر کے بڑے علاقے بجلی سے محروم ہیں۔ ترجمان کے مطابق زیرِ زمین کیبلز اور سب اسٹیشنز میں پانی داخل ہونے سے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔شہر کے کئی علاقوں، جن میں سرجانی ٹاؤن، یوسف گوٹھ، معین آباد، اسکیم 33، بلدیہ، گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، بن قاسم، گلشنِ حدید، منگھوپیر اور رزاق آباد شامل ہیں، بجلی تاحال بحال نہیں ہو سکی۔ اسی طرح نارتھ کراچی، ڈی ایچ اے، اسکیم 33 کی مختلف سوسائٹیز اور بلدیہ میں بھی 48 گھنٹوں سے بجلی غائب ہے، جس سے گھروں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے وعدوں، نیپرا کو دی گئی یقین دہانیوں اور صوبائی وزیر توانائی ناصر شاہ کی مداخلت کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔