سندھ ہائیکورٹ میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، میئر کراچی، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی، ٹرانس کراچی اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 9 ستمبر تک جواب طلب کر لیا۔درخواست گزار آصف اقبال کے وکیل عمر میمن ایڈووکیٹ نے مؤقف اپنایا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا اعلان 2017 میں کیا گیا تھا، جسے 2023 تک مکمل ہونا تھا لیکن منصوبے میں مسلسل تاخیر کی گئی۔وکیل کے مطابق ابتدائی طور پر منصوبے کی لاگت کا تخمینہ 79 ارب روپے لگایا گیا تھا جو تاخیر کے باعث بڑھ کر 103 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ منصوبے کے دوران یوٹیلیٹی تنصیبات کے باعث ڈیزائن میں متعدد بار تبدیلیاں کی گئیں اور اب اس کی نئی تکمیل کی مدت 2026 مقرر کی گئی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ برسات کے دنوں میں سڑکوں کی کھدائی اور نامکمل تعمیرات شہریوں کے لیے مشکلات اور حادثات کا باعث بن رہی ہیں۔ سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی بطور نگران اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام رہی جبکہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی فنڈز کے درست استعمال کا نگران ہے۔






